نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا، جو میرے جگر میں اتر گیا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا، جو میرے جگر میں اتر گیا نا کبھی کوئی مجھے چاہتا نا کبھی کوئی مجھے چاہتا، میں تو اپنے خُوں سے نِکھر گیا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا نا میں چاہ کر بھی وہ بن سکا نا میں چاہ کر بھی وہ بن سکا، نا میں کوئی دل میں اُبھر سکا میں وہ سچ ہوں جو کہیں چھپ گیا میں وہ سچ ہوں جو کہیں چھپ گیا، نا ہوں جھوٹ میں جو سنوَر گیا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا یاں شِعار کچھ چلا ہے وہ، مری پکار کوئی سُنے گا کیوں یاں شِعار کچھ چلا ہے وہ، مری پکار کوئی سُنے گا کیوں، یہ پکار میں ہی اثر نہ تھا، یہ پکار میں ہی اثر نہ تھا، سو ہو کے میں، ہو کے میں، سو ہو کے میں خاک بسر گیا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا، نا کبھی کوئی مجھے وہ ملا، مِلا، مِلا، مِلا، مِلا، نا کبھی نا کبھی مِلا، مجھے مِلا،
ख़ूँ - blood
सँवर – decorate
निखर गया - became clean and pure
शि'आर - custom, trend
ख़ाक-बसर - weeping mournfully and worried and carrying dust and mud on head
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator