سپنا بنی ہے ہر خوشی، ایک تیرے خواب میں اپنا نہیں ہے اب، کوئی بھی تیرے باب میں اتنے ہیں بدگمان وہ کہ پوچھتے ہیں اب ہوتا ہے اب سوال کیوں، ہر ایک جواب میں سپنا بنی ہے ہر خوشی، ایک تیرے خواب میں اپنا نہیں ہے اب، کوئی بھی تیرے باب میں اُن پہ نکھار آئے کیوں ایسا عتاب میں جیسے کہ آفتاب گھلے ماہتاب میں ہم نے تو رکھ دیا ہے، کلیجہ نکال کے دکھتے ہیں جھوٹ کیوں اُسے، پھر ہر ثواب میں شاہد ہے رنگ، ہماری وفا کے، گلاب میں چاہو تو خوں اے دل، میں ملا دوں شباب میں سپنا بنی ہے ہر خوشی، ایک تیرے خواب میں اپنا نہیں ہے اب، کوئی بھی تیرے باب میں آگے ہیں آئینے کے جو ناز و ادا میں وہ ہے یہ سراب ریت میں کہ مے سراب میں اب تک جو تھے ندیم، بنے ہیں رقیب وہ ساقی پلائے زہر، ملا کر شراب می چھپتے کہاں ہیں حُسن کے تیور حجاب سے کتنے کیے ستم، ذرا لائے حساب میں سپنا بنی ہے ہر خوشی، ایک تیرے خواب میں اپنا نہیں ہے اب، کوئی بھی تیرے باب میں। .
बाब - door, royal court
बद-गुमान - suspicious
निखार – elegance, brilliance, grace
'इताब - anger
आफ़ताब - sun
माहताब - moon
सवाब - truth
शाहिद - witness
ख़ूँ-ए-दिल - blood of heart
शबाब – zenith of beauty and youth
नाज़-ओ-अदा - graces, coquetry and style
मय - wine
सराब - mirage
नदीम - closest friends
रक़ीब – enemy
साक़ी – one who serves wine and here metaphorically sweetheart
ज़हर – poison but used here as a metaphor for her suspicious nature
शराब – wine but used here as a metaphor for her intoxicating beauty
तेवर – showing unhappiness and anger by changing looks on one’s face
हिजाब – veil worn by a woman
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator