وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی، وہ خمار تھا جو اتر گیا وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی، وہ خمار تھا جو اتر گیا تھی وہ اَن سُنی کوئی داستان تھی وہ اَن سُنی کوئی داستان، تھا کلام جو بے اثر گیا وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی نہ میں چاہ کر بھی وہ بن سکا نہ میں چاہ کر بھی وہ بن سکا، نہ میں کوئی دل میں اُبھر سکا میں وہ سچ ہوں جو کہیں چھپ گیا میں وہ سچ ہوں جو کہیں چھپ گیا، نہ ہوں جھوٹ میں جو سنور گیا وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی میں یہ درد لے کے چلا گیا، میں یہ گرد میں جا کے مل گیا میں یہ درد لے کے چلا گیا، میں یہ گرد میں جا کے مل گیا میں تو تھا وہ طائرِ بہار میں تو تھا وہ طائرِ بہار، وہ روئے کیوں، روئے کیوں، وہ روئے کیوں میں اگر گیا وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی وہ تھی بے خودی مجھے عشق کی بے خودی بے خودیِ عشق کی بے خودیِ عشق کی بے خودیِ عشق کی
बेख़ुदी – alienation of mind, ecstasy
ख़ुमार – intoxication
कलाम – poems
बे-असर – ineffective
गर्द - dust
ताइरक-ए-बहार - a bird which chirps and brings good news of spring, then disappears
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator