نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا، جو میرے جگر میں اتر گیا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا، جو میرے جگر میں اتر گیا نہ کبھی کوئی مجھے چاہتا نہ کبھی کوئی مجھے چاہتا، میں تو اپنے خوں سے نکھر گیا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا جو وفا نہ کر سکا میں وہ شخص ہوں جو وفا نہ کر سکا میں وہ شخص ہوں، پل ہوں میں جو گزر گیا جو نظر سے گر گیا میں وہ اشک ہوں جو نظر سے گر گیا میں وہ اشک ہوں، ہوں چمن جو بکھر گیا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا میں یہ درد لے کے چلا گیا، میں یہ گرد میں جا کے مل گیا میں یہ درد لے کے چلا گیا، میں یہ گرد میں جا کے مل گیا میں تو تھا وہ تائرکِ بہار میں تو تھا وہ تائرکِ بہار، وہ روئے کیوں، روئے کیوں، وہ روئے کیوں میں اگر گیا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا نہ کبھی کوئی مجھے وہ ملا ملا ملا نہ کبھی نہ کبھی ملا ملا
خوں – blood
نکھر گیا – became clean and pure
گرد – dust
تائرکِ بہار – a bird which chirps and brings good news of spring, then disappears
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator